Skip to main content

English Quote, Faith

 Faith

When you walk to the edge of all the light you have

and take that first step into the darkness of the unknown,

you must believe that one of two things will happen:


There will be something solid for you to stand upon,

or, you will be taught how to fly


Patrick Overton


ایمان

جب آپ اپنے پاس موجود تمام روشنی کے کنارے پر چلتے ہیں۔

اور نامعلوم کے اندھیروں میں پہلا قدم اٹھاؤ،

آپ کو یقین کرنا چاہیے کہ دو چیزوں میں سے ایک ہو گی:


آپ کے کھڑے ہونے کے لیے مضبوطی ہوگی

یا، آپ کو اڑنے کا طریقہ سکھایا جائے گا۔



Comments

Popular posts from this blog

Tou log samjhay

تو لوگ سمجھے  جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے جب اپنی اپنی محبتوں کے  عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے Jo hum pe guzray thy ranj sare Jo khud pe guzray tou log samjhy Jab apni apni muhabtoon ke Azab jhaily tou log samjhy وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے  مسافروں کو اُٹھا دیا تھا اُنہیں درختوں پہ اگلے موسم  جو پھل نہ اُترے تو لوگ سمجھے Wo jin darkhtoon ki chaoon main se Musafiroon ko utha dia tha Unhi darkhtoon pe aglay mousam Jo phal na utray tou log samjhy اس ایک کچی سی عمر والی  کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے Is kachi se umar wali Ke fasafay ko koi na samjha Jab us ke kamray se lash nikli Khatoot niklay tou log samjhy وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے  جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے Wo khawb thay hi chanbailioon se Sou sab ne hakim ki kr li bait Phir ik chanbaili ki aut main se Jo sanp niklay tou log samjhy وہ گاؤں کا ایک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھ...

Yadoon ke khazanay hon ge

یادوں کے خزانے ہوں گے آنکھ کھولوں گا تو یادوں کے خزانے ہوں گے نئے کپڑوں میں وہی لوگ پرانے ہوں گے Aankh kholoon ga tou yadoon ke khazanay hon ge Naye kaproon main wohi log puranay hon ge پیڑ نے بُور نہیں عشق اُٹھایا ہے میاں اب درختوں سے بھی منسوب فسانے ہوں گے  Pair ne boor nahin ishq uthaya hai mian Ab darakhtoon se bhi mansoob fasany hon ge   میرا دشمن مرے اندر ہی چُھپا بیٹھا ہے مجھ کو خود اپنی طرف تیر چلانے ہوں گے Mera dushman mere andar hi chupa baitha hai Mujh ko khud apni tarf teer chalany hon ge   یہ جو اپنے ہیں مرے جان سے پیارے اپنے موت آئی تو سبھی چھوڑ کے جانے ہوں گے Ye jo apnay  hain mere jaan se pyaray apnay Mout aai tou sabhi chor ke jany hon ge   مجلسِ  ہجر کی توقیر بڑھانے کے لیے آنکھ سے اشک نہیں خواب بہانے ہوں گے Majis e hijar ki touqeer barhany ke liye  Aankh se ashk nahin khawab bahany hon ge   یوں بچھڑنے پہ تو دل اپنا بُرا تو نہ کر فیصلے یوں ہی لکھے میرے خدا نے ہوں گے  Yun bicharne pe tu dil apna bura toh na kr Faislay yun hi l...

Aye ibn e adam

اے ابن آدم  اے ابنِ آدم تم اک بات سمجھ لینا کہ لڑکیاں پھول نہیں ہوتیں رستے کی دھول نہیں ہوتیں پھول تو پھول ہوتے ہیں ہر جذبے سے عاری انھیں سجا دو چاہے سیج پہ چاہے کسی مزار کا مقدر بنیں چاہے کسی خوشی یا غمی کا اظہار ہو یہ تو سوکھتے ہیں بکھر جاتے ہیں لڑکیاں تو خوشی سے کھلتی ہیں مہکتی ہیں کائنات کو مہکاتی ہیں جو دکھ ہو کوئی کسی شمع کی ماند قطرہ قطرہ دھیرے دھیرے غم میں گھولتی ہوئی مٹ جاتی ہیں مگر آخری سانس تک جب تک ہو سکے روشنی پھیلاتی ہیں لڑکیاں پھول کیسے ہو سکتی ہیں وہ تو بے جان ہوتے ہیں لڑکیاں احساسات رکھتی ہیں اپنے جذبات رکھتی ہیں لڑکیاں بے مول نہیں ہوتیں مگر اپنوں کی محبت میں  بے مول بک جاتی ہیں کبھی ماں باپ کی عمر بھر کی ریاضتوں کے بدلے بہت سے ان چاہے فیصلوں پر خاموشی سے سر جھکاتی ہیں وہ ہر بات کا شعور رکھتی ہیں عورت کسی بھی روپ میں ہو اسے کبھی بھی بے جان پھول نہیں سمجھنا بنتِ آدم بھی تم جیسی ہے اے ابنِ آدم تم یہ بات سمجھ لینا — Ay ibn adam tum ik baat samajh laina Ke larkian phool nahin hotain Rasty ki dhool nahin hotin Phool tou phool hoty hain Har jazbay se aari Unhain sja...